انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچے کیا کرتے ہیں


میرے ذاتی تجربے کے مطابق انٹرنیٹ اور کمپیوٹر/موبائل کے پازیٹیو یا نيگٹیو استعمال کے لحاظ سے بچوں کی دو کیٹیگریز بنتیں ہیں

1-وہ جنہیں یہ سہولیات بچپن سے میسر ہیں
2-وہ جنہیں یہ سہولیات 14 سال کی عمر کے بعد ملیں

پہلا کیس میرا اپنا بھی ہے اسوقت میری عمر اٹھارہ سال ہے اور جہاں تک مجھے یاد آتا ہے یا پھر میرے گھر والے بتاتے ہیں اس لحاظ سے میں تین سال کی عمرہی سے کمپیوٹر چلا رہا ہوں۔پہلی کیٹیگری یعنی میرے والی کیٹیگری کے بچوں کا کریز گیمز ہوتا ہے وہ مجھ میں بھی تھا اور میں نے گھنٹوں گیمز کھیلیں۔مجھے نا ہی میرے والدین نے روکا اور نا ہی ایسا کرنے پہ مارا۔اور ایسا کرنے سے میرے گریڈز میں بھی فرق نا پڑا۔
مزید آگے بڑھنے سے پہلے دوسری کیٹگری کی بات کرلیتے ہیں چودہ سال کی عمر سے بچہ جب آگے جاتا ہے تو اسکی سوچ میں اک نیا اضافہ ہوتا ہے اگر اس دوران اگر آپ اپنے بچے کو کمپیوٹر یا موبائیل دیں گے اور ساتھ انٹرنیٹ کنیکشن بھی تو یہ پتھر پر لکیر ہے کہ وہ اسکا نیگٹیو استعمال ضرور کرگا

کیونکہ یہ عمر کا(14-16) وہ حصہ ہوتا ہے جس میں بچہ میچیور ہونا شروع ہوتا ہے اور اس میں مخالف جنس (Opposite Sex)کو جاننے کا کریز پیدا ہونا شروع ہوتا ہے اگر آپ عمر کے اس حصے میں بچے کو انٹرنیٹ اور موبائیل کی سہولت (Facility ) دیں گے تو سو فیصد نیگٹیو استعمال کرگا کیونکہ اسے پازیٹیو استعمال کا پتا ہی نہیں ہوگا
اسکے برعکس میں نے اور میرے جیسے کئی دوست جو بچپن سے انٹرنیٹ چلاتے آرہے ہیں انہوں نے 14-15 سال کی عمر تک صرف پازیٹیو استعمال ہی کیا ہوتا ہے جبکہ اگر 14-15 سال کی عمر میں آکر ہم میں جب یہ کریز پیدا ہوا تھا تو ہم نے یہ کریز تو پورا کرنا ہی تھا مگر ہمارا پچھلے دس سالوں کا پازیٹیو استعمال غالب آجاتا تھا

اور ہم نے اس دوران گیمنگ کی،بلاگنگ کی یوٹیوب پہ ویڈیوز اپلوڈ کرکے پیسے کمانا سیکھا اور سب سے زیادہ شوشل میڈیا کا پازیٹیو استعمال سیکھا۔جبکہ میرے وہ دوست جن کو بچپن میں والدین نے انٹرنیٹ اور موبائیل Facility نا دی۔اور 14-13 سال کی عمر میں دی۔انہوں نے کمپیوٹر/موبائیل کا فقط نیگٹیو استعمال کیا کیونکہ وہ پازیٹیو استعمال جانتے ہی نہیں تھے

اس لیے اگر ہوسکے اپنے بچے کو دو یا تین سال کی عمر سے موبائیل اور کمپیوٹر کی ٹچ میں رکھیں اور انہیں تب سے ہی پازیٹیو یوژ سکھائیں۔کیونکہ 13 سال تک ایک بچا پازیٹیو سوچ ہی رکھتا ہےاور بے حد سیکھ سکتا ہےاسکے علاوہ اپنے بچے کو شوشل میٹنگز جیسا کہ پنچائیت،سیاسی جلوس وغیرہ میں بھی لیکر جائیں اور اس سے حالات حاضرہ پر بحث کریںکیونکہ کل کو اس نے فقط نوکری ہی نہیں کرنی بلکہ معاشرے کی فلاح میں بھی حصہ ڈالنا ہے

میں بذات خود بچپن ہی سے سیاسی جلوس اور میٹنگز اٹینڈ کرتا آرہا ہوں اور اسکے ساتھ ساتھ میں نے نویں کلاس تک پہچنے سے پہلے مودودی رح،نسیم حجازی،کا مطالعہ کرچکا تھا اسکے علاوہ بخاری شریف،قصص الانبیا،فضائل اعمال،اہلسنت والوں کا لٹریچر اور مولانا تھانوی وغیرہ کو پڑھ چکا تھا اور الحمدللہ آج دین میں بھی میں اپنے کئی دوستوں سے بہتر معلومات رکھتا ہوں سیاست میں بھی اور ان سے زیادہ آئی ٹی جانتا ہوں بلاگنگ کرلیتا ہوں اور میری تعلیمی ریکارڈ بھی اے پلس رہا ہے اور اب تک ہے پتا ہے کیوں؟کیوںکہ میرے والدین جانتے تھے کہ میری ضروریات کیا ہیں۔اب یہ آپ کی مرضی ہے کہ آپکا بچہ کیا بنے گا


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *