امیر اہلسنت مولانا الیاس قادری ،سلیم اللہ شیخ ۔ترتیب و تدوین عدیل الرحمٰن

  • 8
    Shares

12 جولائی 1950
26 رمضان المبارک 1369
یوم پیدائش مولانا الیاس قادری

مولانا الیاس قادری دامت برکاتہم دعوت اسلامی کے امیر ہیں اور دعوت اسلامی دعوت وتبیلغ کی عالمی غیر سیاسی تنظیم ہے۔ جس کا مشن دنیا بھر میں نبی مہربان ﷺ کی سنتوں کو عام کرنا ہے۔ بنیادی طور پر دعوت اسلامی کا تعلق مسلک اہلست و الجماعت ( بریلوی ) مکتبہ فکر سے ہے۔ اس وقت ہمارے معاشرے میں ایک دوسرے کے مسالک کے بارے میں انتہائی شدید غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ باہم بیٹھ کر ایک دوسرے سے تبادلہ خیالات کیا جائے اور اسلام کی تبلیغ کے سب سے سادہ اصول یعنی اختلاف کے بجائے جو بات ہم میں مشترک ہے اس کی طرف دعوت دی جائے ۔

آج مولانا الیاس قادری کے یوم پیدائش پہ کراچی کے ایک صحافی سلیم اللہ شیخ کا لکھا ایک کالم پیش خدمت ہے۔
ماہ اپریل میں ہمارے دفتر میں دعوت اسلامی کے کچھ نمائندے آئے اور انہوں نے امیر دعوت اسلامی حضرت مولاناالیاس قادری دامت برکاتہم کی جانب سے ایک نشست کی دعوت دی کہ امیر اہلسنت نے صحافی حضرات کے ساتھ ایک نشست رکھی ہے۔ ہم اگرچہ صحافی تو نہیں ہیں لیکن صحافیوں کے طفیل ہم نے اس نشست میں شرکت کی ۔

یہ نشست دعوت سنت کے عالمی مرکز فیضان مدینہ میں رکھی گئی تھی۔ فیضان مدینہ کراچی میں پرانی سبزی منڈی کے پاس عسکری پارک سے متصل ایک وسیع و عریض مرکز ہے۔گرچہ اس طرف جانا تو ہوتا تھا اور ایک دو دفعہ یہاں کے اسٹالز سے کچھ چیزوں کی خریدار ی بھی کی لیکن پہلی بار اس مرکز کے اندر جانا ہوا۔

موجودہ حالات کے پیش نظر مرکز اور حضرت مولانا الیاس قادری دامت برکاتہم کی سیکورٹی کا معقول انتظام تھا، پروگرام کا وقت رات گیارہ بجے کا تھا اور ہم تقریباً اسی وقت وہاں پہنچ گئے ۔ سب سے پہلے مرکز کے دروازے سے تھوڑا دور ایک استقبالیہ بنایا گیا تھا جہاں انتظامیہ کی ذمہ داری پر معمور اسلامی بھائیوں نے ہمارا اسقتبال کیا ۔ یہاں ہمارے کوائف کے اندارج کے بعد ایک شناختی کارڈ دیدیا گیا کہ اس کو گلے میں پہن لیں۔ اس کے بعد دو ساتھی ہمیں اپنی رہنمائی میں مرکز کی جانب لے گئے۔ مرکزی دروازے پر واک تھرو گیٹ ہوتے ہوئے ہم اندروی دروازے پر پہنچے ۔ یہاں پر ایک ساتھی نے ہمارا ساتھ یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ میں اس سے آگے نہیں جاسکتا البتہ ایک ساتھی ہمارے ساتھ ہی موجود تھے انہی کی رہنمائی میں ہم اندرونی گیٹ تک پہنچے، یہاں ایک بار پھر تلاشی اور واک تھرو گیٹ سے ہوتے ہوئے ہم مسجد میں داخل ہوئے اور بخدا اندر داخل ہوتے ہیں پہلا تاثر ہی انتہائی خوشگوار تھا کیوں کہ مسجد کا انتہائی وسیع و عریض صحن ہمارے سامنے تھا اور اس کو دیکھ کرذہن میں ایک خوشگوار تاثر ابھرتا ہے۔

یہاں پر ساتھی نے ہم سے درخواست کی کہ ہم اپنی چپلیں یا جوتے اتار کر جمع کرادیں اور ٹوکن حاصل کریں ۔ یہاں اس بھائی نے ہمارے جوتے خود اتارنے کی کوشش کی جس کو ہم نے فوراً ناکام بنایا اور خود ہی جوتے اتار کر جمع کرائے اور ٹوکن حاصل کیا۔ایک طرف پینے کے پانی کے کئی نل لگے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ ہی ایک بہت بڑا وضو خانہ بھی موجود تھا۔ یہاں سے ہم اندرونی ہال کی جانب روانہ ہوئے جہاں امیر صاحب موجود تھے اور یہی ہال مدنی چینل کا ریکارڈنگ روم بھی ہے۔

یہاں مزید سخت سیکورٹی کا انتظام تھا ، یہاں بھی سیکورٹی سے بخیر و عافیت گزرتے ہوئے اندر ہال میں داخل ہوئے جہاں کھانے کا اس وقت مدعوین کی ضیافت کا انتظام تھا۔ یہاں انتہائی خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب میں نے دیکھا کہ حضرت مولانا الیاس قادری دامت برکاتہم خود ہی شرکا ء کو پانی پلاتے نظر آئے ، آپ پانی کا جگ لیکر صفوں کے درمیان گھومتے ہوئے لوگوں کو پانی پلا رہے تھے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو انہوں نے خندہ پیشانی سے ہمارا استقبال کیا اور یہ محسوس ہی نہ ہوتا تھا کہ ہم ان سے پہلی بار مل رہے ہیں بلکہ ایسا رویہ گویا کہ ہمارا آ پس میں برسوں پرانا تعلق ہے۔ حضرت صاحب سے مصافحہ و معانقہ کرکے ہم بھی ضیافت میں شریک ہوئے اور یہاں بھی سنت نبوی ﷺ کو مد نظر رکھتے ہوئے سادہ ( خشکہ ) چاول اور دال لوکی سے مہمانوں کی تواضع کی جارہی تھی ( لوکی یا کدو نبی مہربان ﷺ کی پسندیدہ سبزی تھی ) ۔

ضیافت کے دوران ہی امیر صاحب نے اپنی نشست سنبھال لی اور جیسے جیسے لوگ ضیافت سے فارغ ہوتے گئے وہ تخت کے سامنے بیٹھتے گئے ۔ اور تھوڑی دیر بعد ہی اس پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ یہ پروگرام بنیادی طور پر ایک مذاکرہ تھا اور حضرت صاحب نے صحافیوں سے نشست اس لئے رکھی تھی کہ موجودہ دور میں جھوٹ، مکر فریب اور سنسنی خیزی کے بجائے مثبت رپورٹنگ اور صحافت کیسے کی جائے اور معاشرے کو انتشار سے بچانے میں صحافی حضرات اور ذرائع ابلاغ کیا کردار ادا کرسکتے ہیں ۔

یہاں نشستوں کی ترتیب اس طرح تھی کہ مولانا صاحب دامت برکاتہم کے دائیں جانب غالباً ان کے نائب یا مرکز کے امور عامہ کے نگران جناب عمران عطاری قادری تشریف فرما تھے اور آپ کے بائیں جانب دو مفتی حضرات تشریف فرما تھے۔ ( یہ اس لئے کہ مولانا صاحب کوئی بھی دینی مسئلہ بتاتے ہوئے جہاں ضرورت ہوتی اسی وقت مفتی حضرات سے رائے لیتے اور پھر مسئلہ بیان کرتے تھے )-

سب سے پہلے حمد باری تعالیٰ پیش کی گئی ، اس کے بعد نعت رسول مقبول ﷺ پڑھی گئی۔ اس کے بعد جناب عمران عطاری قادری نے اس مذاکرے کے اغراض و مقاصد بیان کئے اور حضرت صاحب سے درخواست کی کہ مذاکرہ کے آغاز سے قبل شرکاء کی رہنمائی کی جائے کہ کسی نشست کے کیا آداب ہوتے ہیں اور کسی بھی کام کے لئے نیت کی کیا اہمییت ہے اور یہاں موجود شرکا کو کیا کیا نیتیں کرلینی چاہیے۔

اس کے جواب میں مولانا صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں قرآن و حدیث کے مطابق سب سے پہلے نیت کی اہمیت بیان کی، اس کے بعد شرکاء سے مختلف باتوں کی نیت کرائی گئی اور یوں مذاکرہ کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔

یہاں سب سے پہلے کچھ صحافی حضرات نے سوالات ریکارڈ کرکے بھیجے تھے، وہ سنوائے گئے اور مولانا صاحب دامت برکاتہم نے ان کا معقول و مدلل جواب دیا اور جہاں جہاں ضرورت محسوس ہوئی مفتی صاحبان سے بھی رائے لیتے گئے ۔ جب کہ درمیان میں شرکاء نے براہ راست بھی حضرت صاحب ؒ سے سوالات کئے ، کچھ شرکاء نے سخت اور تند سوالات بھی کئے جن کا حضرت صاحب نے انتہائی ٹھنڈے انداز میں جواب دیا۔سوال وجواب کے دوران ہی چائے پیش کی گئی ۔

چائے پینے کے بعد جب گھڑی دیکھی تو رات کے ڈھائی بج گئے تھے ۔ اگر چہ اس نشست سے اٹھنے کا دل تو نہیں چاہ رہا تھا لیکن نیند کے غلبے کے باعث ہم اس نشست کو ادھورا چھوڑ کر جانے پر مجبور ہوئے بعد میں ساتھیوں نے بتایا کہ یہ مذاکراہ کم و بیش چار بجے تک جاری رہا اور مولانا صاحب نے صحافیوں کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ دعوت اسلامی کے بارے میں لوگوں کی غلط فہمیاں بھی دور کی اور دعوت اسلامی کی بنیاد او ر تاریخ کے بارے بھی لوگوں کو آگاہ کیا۔یہ بات ہمیں بعد میں معلوم ہوئی کہ مدنی چینل پر یہ مذاکرہ براہ راست دکھایا جارہا تھا۔

حضرت مولانا الیاس عطاری قادری صاحب کے لئے دل میں احترام تو پہلے بھی تھا لیکن اس نشست کے بعد الحمدللہ ان کے لئے محبت کے جذبات پیدا ہوگئے۔ مجھے انکی سادگی، مہمان نوازی اور بالخصوص سنت نبوی ﷺ کے عین مطابق ہر بات کا جواب مسکر ا کر دینا اور انتہائی تلخ اور تند باتوں کو بھی برداشت کرکے صبر و تحمل کے ساتھ ان کا جواب دینا پسند آیا ۔
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا دامت برکاتہم صاحب کی عمر و علم میں برکت عطا فرمائے تاکہ خلق خدا ان کی ذات سے فائدہ اٹھاتی رہے ۔ اور دعا ہے کہ ہم لوگ مسالک اور فرقہ واریت کے جھگڑوں کے بجائے آپس میں رابطہ بڑھائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے درمیان دوریوں کی جو ایک خلیج پیدا ہوچلی ہے وہ دور ہوجائے اور مسلمان خواہ وہ بریلوی ہو یا دیوبندی یا کوئی اور مسلک کا ماننے والا ہو آپس میں متحد ہوجائیں ۔
منفعت بھی ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی ، دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی ، اللہ بھی قرآن بھی ایک
کیا بڑی بات تھی جو ہوتے مسلمان بھی ایک


  • 8
    Shares

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *