امام احمد رضا خان بریلوی رح ،علم و حکمت کے مہردرخشاں


چودہویں صدی ہجری میں بر صغیر میں مسلمان انگریزوں کے زیر تسلط تھے۔ مسلمانوں کا علمی سرمایہ تباہ ہوچکا تھا۔ چاروں طرف سے اسلام کی اساسیت اور حقانیت کے خلاف باطل نظریات و عقائد کے فتنے سر اٹھارہے تھے۔ رسول کریم ﷺ کی ناموس پر حملے ہونے لگے، آپ ﷺ کی تعظیم و توقیر کی حد بندیاں کی جانے لگی تھیں۔آپ ﷺ کا علم ناپنے کے پیمانے تیار ہوچکے تھے۔اختیاراتِ مصطفی ﷺ کی حد بندیاں بیان کی جانے لگی تھیں۔ ایسے پر فتن دور میں مسلمانوں کی اصلاح کے لیے امام احمد رضا کی شخصیت مسلمانوں کا مصلح بن کر سامنے آئی ۔ آپ علیہ الرحمہ کی ولادت ہندوستان کے شہر بریلی میں بروز ہفتہ ۱۰ شوال المکرم ۱۲۷۲ھ بمطابق ۱۴ جون ۱۸۵۶ء کو ہوئی ۔ آپ کا نام محمد رکھا گیا۔ لیکن آ پ کے دادا نے آپ کو پکارنے کے لیے آپ کا نام احمد رضا رکھا۔ آ پ کو اسی نام سے شہرت حاصل ہوئی۔ آپ اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنت، حسان الہند جیسے القابات سے بھی جانے جاتے ہیں۔ آپ صرف ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ عالم اسلام کے لیے نوید بن کر آئے۔مسلمانوں کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا، مسلمانوں کو اُن کا حقیقی مقام و مرتبہ بتایا، ان کو اپنے اسلاف کی گمشدہ میراث دی۔ نظریاتِ اسلام کی حفاظت کی۔دینِ حق میں شامل ہونے والی خرافات کو مٹایا، باطل نظریات و عقائد کا قلع قمع کیا۔

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے گھر پر ہی حاصل کی۔تقریبا اکیس علوم اپنے والد سے گھر پر حاصل کیے۔ صرف تیرہ سال دس ماہ چار دن کی عمر میں اپنے زمانے کے متبحر علماء کی نگاہوں کا مرکز بن گئے ، اسی عمر میں ایک فتویٰ لکھ کر اپنے والد گرامی کی خدمت میں پیش کیا تو آپ کے والد گرامی نے اسی وقت آپ کے علمی کمال اور پختگی کو دیکھ کر فتویٰ نویسی کی جلیل الشان خدمت آپ کے سپرد کردی۔ اس کے بعد سے آپ تاحیات منصب افتاء پر فائز رہے اور مسائل کے جواب دیتے رہے۔ آپ کی شخصیت بیک وقت متعدد کمالات و صفات کی حامل تھی ۔ آپ کو قوی الحافظہ تھے۔ آپ نے روزانہ ایک سپارہ یاد کرکے تیس دن میں مکمل قرآن مجید یاد کیا۔ آپ تفسیر، حدیث، فقہ سمیت متعدد جدیدسائنسی علوم میں مہارت رکھتے تھے۔

زمانۂ طالب علمی میں ایک مرتبہ آپ جیومیٹری کے متعلق ایک مسئلہ حل کررہے تھے تو یہ دیکھ کرآپ کے والد نے آپ سے فرمایا’’: بیٹا! یہ تمام علوم ذیلی و ضمنی ہیں تم علوم دینیہ کی طرف متوجہ رہو، بارگاہِ رسالت سے یہ علوم تمہیں خود عطا کردیے جائیں گے‘‘۔ پھر واقعی اس کے بعد دنیا نے دیکھا کہ آپ کو کسی کالج و یونیورسٹی سے پڑھے بغیراور کسی ماہر استاد سے تعلیم حاصل کیے بغیر تمام سائنسی علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل ہوئے۔ یہاں تک کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سر ضیاء الدین کو ریاضی کے ایک مسئلہ کے لیے آپ کی جانب رجوع کرنا پڑا۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ ڈاکٹر صاحب جرمنی سے اپنی تعلیم مکمل کرکے اپنے ملک واپس آئے تو کچھ عرصہ بعد انہیں ریاضی کے ایک مسئلہ کو حل کرنے میں پریشانی کا سامنا ہوا ،

کافی کوشش کے باوجودوہ مسئلہ حل نہیں ہواتو ڈاکٹر صاحب نے صرف مسئلہ کے حل کے لیے دوبارہ جرمنی جانے کا ارادہ کیاتو مولانا سید سلیمان اشرف بیہاری علیہ الرحمہ نے ڈاکٹر صاحب کو امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے پاس جانے کا مشورہ دیا۔ ڈاکٹر صاحب تھوڑی سی پس و پیش کرنے کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اعلیٰ حضرت نے فرمایاکہ ارشاد فرمائیے: انہوں نے کہا کہ وہ مسئلہ ایسا نہیں جسے اتنی آسانی سے عرض کروں۔ اعلیٰ حضرت نے فرمایا: کچھ تو فرمائیے۔ ڈاکٹر صاحب نے سوال پیش کیا تو اعلیٰ حضرت نے کچھ ہی دیرمیں فی البدیہہ وہ مسئلہ حل کرکے ڈاکٹر صاحب کو دے دیا۔ ڈاکٹر صاحب یہ دیکھ کر حیران ہوگئے اور بیساختہ کہہ اٹھے کہ علم لدنی کے بارے میں صرف سنا ہی تھا لیکن آج اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ بھی کرلیا۔

امام اہلسنت نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی خدمت میں صرف کی۔ راہِ حق سے بھٹکانے والوں کو دندان شکن جوابات دیے ۔مسلمانوں کو علم کے نور سے منور کیا، ان کے دلوں کو عشق رسول ﷺ سے مزین کیا۔ مغربی استعمار کی مذموم سازش تھی کہ مسلمانوں کے دلوں میں سے جذبۂ عشق رسول نکال دیا جائے، اس سازش کو کامیاب بنانے کے لیے مسلمانوں کے درمیان ایسے لوگ تیار کرکے لائے گئے جو بظاہر تو مسلمان تھے ، ان کا رہنا سہنا مسلمانوں کے ساتھ تھا، مسلمانوں کا لبادہ اوڑھتے تھے، لیکن فی الحقیقت وہ بھولے بھالے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف عمل تھے۔ مغربی استعمار کی کافی کوششوں کے باجود امام اہلسنت کی خداداد بصیرت نے اس سازش کومکمل کامیاب ہونے نہیں دیا اور آ پ نے ہر دم مسلمانوں میں جذبۂ عشق رسولﷺ بڑھایا۔ آپ نے نبی کریم ﷺ کے بشری و انسانی اوصاف و کمالات کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کومعجزاتی و نورانی پہلوؤں سے بھی روشناس کرایا۔گمراہی کے سمندر میں ملت اسلامیہ کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچایا اور صراط مستقیم پر گامزن کیا۔

آپ کے زمانے میں ہندو مسلم اتحاد کی پھر پور تحریکیں چلائی جارہی تھیں۔ ایسے موقع پر آپ نے دو قومی نظریہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں لہٰذا ہندو مسلم اتحاد کسی طور نہیں ہوسکتا۔ آپ حق گو تھے۔ آپ ببانگ دہل حق بیان کیا کرتے تھے۔ دنیاکی کوئی بھی لالچ یا خوف آپ کو حق گوئی سے مانع نہیں تھا۔ آپ کے زمانے میں ہندوؤں اور انگریزوں کی خوشنودی کے لیے جب اس بات کا اعلان کیا کہ اگر کوئی ہندو قتل کردیاجائے یا کسی ہندو کو تکلیف دی گئی تو اس کے ازالے کے لیے دس مسلمانوں کو موت کی بھینٹ چڑھایا جائے گا۔تو ایسی صورت میں تن تنہا بریلی کے عظیم بہادرامام اہلسنت نے ہندو ؤں اور انگریزوں کو للکارا تھا اور ان سے دوٹوک کہہ دیا تھاکہ اگر کسی مسلمان کے ناخن کو بھی تکلیف پہنچی تواس کے بدلے میں احمد رضا ہزاروں ہندوؤں کے سر کاٹ کر رکھ دے گا۔امام اہلسنت نے ہی ہندو اور مسلمان کی جداگانہ قومیت کا تصور پیش کیا،

اور مسلمانوں کو ہندوؤں سے علیٰحدہ رہنے کا تصور دیا ۔یہی وہ پہلی کرن تھی جو بعد میں پاکستان کی آزادی کا سبب بنی۔
امام اہلسنت ماہرِ الٰہیات و فلکیات، ماہرِ ریاضیات و طبیعیات، ماہرِ نجوم و توقیت، ماہرِ علم الادویات اور ماہر علم الابدان تھے۔ آپ نے مختلف علوم و فنون میں کئی ایک کتابیں تصنیف کیں۔ آپ نے صرف اسلامی موضوعات پر نہیں بلکہ سائنس کے موضوعات پر بھی متعدد رسائل و کتب تصنیف کیے۔مسلمان سائنسدانوں کی تحقیقات کے خلاف آنے والی غیر اسلامی تحقیقات کو ان ہی کے دلائل کی روشنی میں ان کے نظریات کا رد کیا اور ان ہی کے دلائل سے حقیقی نظریہ واضح کیا۔

آپ نے مختلف علوم و فنون میں تقریبا ایک ہزار سے زیادہ کتابیں تصنیف و تالیف فرمائیں اورملت اسلامیہ کو علمی سرمایہ فراہم کیا۔ آپ کے فتاویٰ جات اور رسائل کا مجموعہ تیس جلدوں پر مشتمل ۲۰۶ رسائل سمیت ’’ العطایا النبویۃ فی الفتاویٰ الرضویۃ ‘‘کے نام سے موجود ہے جس سے آج بھی نہ صرف پاک و ہند بلکہ عرب و عجم میں بھی استفادہ کیا جارہا ہے۔ آپ بہترین نعت گو شاعر تھے۔ آپ کا مشہور سلام ’’ مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘ آج بھی دنیا میں گونج رہاہے۔ آپ کے نعتیہ مجموعہ ’’ حدائق بخشش ‘‘ کا ایک ایک مصرعہ سرور دوعالم ﷺ سے بے پایاں عقیدت و محبت کی شہادت دیتا ہے۔ آپ علیہ الرحمہ کا وصال ۲۵ صفر المظفر ۱۳۴۰ھ بمطابق ۱۹۲۱ء بروز جمعہ کو ہوا ۔ آپ کا مزار مبارک بریلی میں آج بھی زیارت گاہ خاص و عام بنا ہوا ہے۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *