اسلام علم حدیث علم حدیث

منکرین حدیث کا اجمالی تعارف–انس انیس


گزشتہ سے پیوستہ
گزشتہ قسط میں انکار حدیث کی وجہ اور ہندوستان میں سب سے پہلے کھلم کھلا انکار حدیث کرنے والے شخص عبداللہ چکڑالوی کا مختصراً تعارف آپکی خدمت میں پیش کیا گیا کہ ان کا اصل نام قاضی غلام نبی تھا والد صاحب عالم دین تھے اور ڈپٹی نذیر احمد کے شاگرد تھے غلام نبی اول نام تھا جب احادیث مبارکہ سے نفرت بڑھی تو اپنا نام غلام نبی سے بدل کر عبداللہ چکڑالوی رکھ لیا؛ عبداللہ چکڑالوی کی مشہور تصانیف میں سے ترجمۃ القرآن بآیات القرآن کے نام سے قرآن کی تفسیر اور الزکوۃ والصدقات؛ برہان الفرقان کے نام سے کتابیں ہیں ان کتب میں انہوں نے اپنی تمام محنت اس بات پر صرف کی کہ حدیث کی کوئی اصلیت نہیں؛ یہ بعد کی پیداوار ہے؛ یہ عجم کی سازش ہے وغیرہ وغیرہ
حافظ اسلم جیراجپوری
چکڑالوی صاحب کے مشن کو حافظ صاحب نے آگے بڑھایا اور انکار حدیث کا بھرپور پرچار کیا؛ حافظ صاحب جےراج پور اعظم گڑھ بھارت میں 1882 کو پیدا ہوئے؛ آپ کے والد مولانا سلامت اللہ ایک اہلحدیث عالم تھے اور بھوپال میں ملازم تھے؛ اسلم صاحب وہیں تعلیم حاصل کی؛ پیسہ اخبار اور علی گڑھ کالجیٹ سے منسلک رہے؛ آخر میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے وابستہ ہو گئے”1956 کو آپ نے وفات پائی؛ (شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا 213)
حافظ صاحب انکار حدیث کے ایک بڑے ستون گردانے جاتے تھے؛آپ کی مشہور کتب میں سے مقام حدیث اور نوادرات اور تاریخ الامۃ وغیرہ ہیں بطور مؤرخ آپ نے ذیادہ شہرت پائی؛ حدیث کے متعلق آپ کی ایک عبارت ءبطور نمونہ ملاحظہ فرمائیں مقام حدیث جلد اول میں رقمطراز ہیں نہ حدیث پر ہمارا ایمان ہے اور نہ اس پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے؛ نہ حدیث کے راویوں پر ہمارا ایمان ہے نہ اسپر ایمان لانے کا ہم کو حکم دیا گیا ہے؛ نہ حدیث کی سند میں جو رجال ہیں ان پر ہمارا ایمان ہے نہ ان پر ایمان لانے کا ہم کو حکم دیا گیا ہے؛ پھر کس قدر عجیب بات ہے کہ ایسی غیر ایمانی غیر یقینی چیز کو ہم قرآن کی طرح حجت مانیں؛؛
اسی طرح موصوف معراج جسمانی اور معجزات کا بھی انکار کرتے چلے گئے؛
نیازصاحب فتح پوری
نیاز فتح پوری من ویزداں کے مصنف اور رسالہ نگار کے مدیر تھے منکرین حدیث میں وہ اپنی تحقیق کی وجہ سے بڑا مقام رکھتے ہیں؛ نیاز صاحب کے نظریات اس قدر خطرناک اور گمراہی کی کھائی میں لے جانے والے ہیں کہ الامان والحفیظ ؛ انکار حدیث میں اس قدر جری ہوئے کہ مسلمانوں کی تمام خرابیوں کا ذمہ دار حدیث کو ٹھہرایا؛ حدیث میں تشکیک کے کانٹے اس قدر بوئے کہ قرآن مجید پر بھی حرف زنی کرنے سے باز نہ آئے؛ من ویزداں حصہ اول صفحہ نمبر 547 میں لکھتے ہیں کلام مجید کو نہ میں کلام مجید سمجھتا ہوں اور نہ الہام ربانی بلکہ ایک انسان کا کلام جانتا ہوں؛ نیز معجزات کے بارے میں بھی سنتے جائیے اسی کتاب کے صفحہ 470میں فرماتے ہیں معجزے کبھی ظاہر ہی نہیں ہوئے بلکہ یہ سب داستانیں ہیں جو صدیوں بعد گھڑی گئیں؛؛
جاری ہے