اسلام علم حدیث علم حدیث

منکرین حدیث کا اجمالی تعارف — انس انیس

  • 1
    Share

محترم قارئین امت مسلمہ دیگر مذاہب کے مقابل ایک درخشاں تاریخ رکھتی ہیں؛ آج تک کسی مذہب کے پیروؤں نے اپنی مذہبی کتابوں کی حفاظت اتنی نہیں کیجتنی امت مسلمہ نے کی؛ اپنی خواہشات نفسانیہ کو پروان چھڑھانے کے لیے یہودونصاری کے دینی احبار اور رھبان نے اپنی مذہبی کتابوں میں مختلف قسم کی باطل تاویلات کر کے یا اس حکم کو منسوخ کر کے یا درمیان سے اڑا کر آسانی پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے رہے؛ چونکہ قرآن کریم کی حفاظت کا ذمہ اللہ رب العزت نے اٹھایا ہے اور فرمایا؛ ہم نے ہی اتارا ذکر (یعنی قرآن مجید) اور ہم کی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں؛

حدیث مبارکہ قرآن حکیم کی تشریح کی حیثیت رکھتی ہے؛ اگر تفسیر القرآن بالقرآن نہ ہو تو سب سے پہلے ہم نے آیات قرآنی کی تفسیر احادیث مبارکہ میں ہی دیکھنی ہے؛ پھر اس کے بعد اقوال صحابہ وتابعین کی طرف رجوع کیا جاتا ہے؛ امت مسلمہ نے قرآن مجید کے گرد حدیث مبارکہ کو پہرہ دار بنایا جس طرح قرآن کے الفاظ ومعانی محفوظ ہیں بعینہ اسی طرح احادیث مبارکہ بھی لفطا ومعنا محفوظ ہیں؛ جس طرح مسلمانوں نے قرآنی کریم کو روایت کیابعینہ اسی طرح وہ آحادیث مبارکہ کو بھی روایت کرتے گئے جب تھوڑا سا خطرہ علماء محدثین نے محسوس کیا تو پھر جرح وتعدیل کے وہ قوانین بنائے جن کے سامنے ہر جھوٹا مکار کذاب نکھرتا چلا گیا؛

متن حدیث والفاظ کو یاد کرنے وروایت کرنے کے لیے کے لیے علماء محدثین جان جوکھوں میں ڈال کر میلوں میل کے اسفار طے کر کے وہ کام کیا جس کے سامنے آج مستشرقین یورپ بےبس نظر آتے ہیں؛ چونکہ یہ تمام صورتحال دیگر مذاہب خصوصاً اہل کتاب کے لیے جو مسلمانوں سے پہلے خطے کے تھانیدار تھے دنیا کی روحانی قیادت بھی کررہے تھے یہ صورتحال ناقابل برداشت اور نہایت تلخ تھی جو مسلمانوں کا سیاسی اور جنگی توڑ نہ کر سکے اس وجہ سے امت مسلمہ کے دینی وعلمی قیادت پر انہوں نےحملے شروع کر دیے ؛ اپنے بڑی بڑی اہل علم شخصیات کو مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پھیلانے کی غرض سے داخل کرنا شروع کر دیا اس لیے سب سے پہلے انہوں نے اپنا نشانہ علم حدیث کو بنایا؛ تاکہ کسی طرح سے اس علم پر امت مسلمہ کا اعتماد اٹھایا جا سکے؛

جب حدیث پر اعتماد اٹھ جائے گا تو قرآن پر اعتماد اٹھانے میں ذیادہ دیر نہیں لگے گی یہی وجہ ہے کہبھرپور طریقے سے احادیث پر تنقید کے نشتر چلا کر یہ کہا جانے لگا احادیث کوئی چیز نہیں؛ یہ عجمیوں کی سازش ہے؛ جہاں تک ہم جائزہ لیتے ہیں تو یہ معلوم پڑتا ہے کہ پہلی صدی تک صحیح احادیث کو باجماع بالاتفاق حجت اور مستدل سمجھا جاتا تھا یہاں تک کہ پہلی صدی ہجری کے آخر میں فتنہ اعتزال کا بانی واصل بن عطا اٹھا یہ شخص حدیث کے مقابلے میں عقل کے گھوڑے دوڑاتے ہوئے بہت آگے نکل گیا جیسا کہ حافظ ابن حزم رحمۃاللہ نے اپنی مایہ ناز تصنیف الاحکام میں رقم کیا کہ اہل سنت خوارج شیعہ اور قدریہ تمام فرقے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان احادیث کو جو ثقہ راویوں سے منقول ہوں برابر قابل حجت سمجھتے تھے

یہاں تک کہ پہلی صدی کے بعد متکلمین معتزلہ آئے اور انہوں نے اس اجماع کا انکار کیا؛اس کے بعد معتزلہ کی باقیات ہندوستان میں منتقل ہوئی پھر ہندوستان میں سرسید احمد خان جو تحریک نیچریت کے بانی مبانی تھے سرسید صاحب کے شاگرد مولوی چراغ علی وغیرہ بھی ان کے ہمنوا تھے سرسید احمد خان مرحوم نے جنت جہنم پل صراط کے متعلق وارد ہونے والی احادیث کا انکار کیا اور یہاں آکر انہوں نے اپنی عقل وخواہشات کو دخل دیا اس طرح دیگر چیزیں جو ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہیں ان کا انکار کیا؛ انشاءاللہ وقت نے اجازت دی تو سرسید صاحب کی ان تمام تاویلات فاسدہ کو جو انہوں نے اپنی تفسیر میں رقم کی قارئین کے سامنے پیش کیا جائے گا؛ چنانچہ سرسید صاحب کا علمی وشافی رد انہی کے بعد مصنف تفسیر حقانی نے اپنی تفسیر میں جا بجا کیا اور باقاعدہ اس تفسیر کا مقدمہ ہی جو ایک جلد پر مشتمل ہے سرسید صاحب کے علمی تعاقب میں وقف کیا؛

درمیان میں اختصار کے ساتھ مستشرقین کا ذکر بھی کرتے چلیں پھر عبداللہ چکڑالوی سے باقاعدہ اس سلسلے کو آگے بڑھائیں گے؛ مستشرقین نے اس پہلو کے لحاظ سے اسلام کی صفوں میں خوب اختلاف؛ تشکیک؛ انتشار کا بیج بویا اور اسی سلسلے میں انہوں نے اپنی عمریں ہی اس کام کے لیے وقف کر دیں؛ گولڈزہیر اور مسٹر شاٹ اس سلسلے میں نمایاں نام ہیں الحمدللہ عرب علماء نے ان کا بھرپور تعاقب کیا؛ اب آتے ہیں ان منکرین حدیث کی طرف جنہوں نے کھلم کھلا حدیث مبارکہ کا انکار کیا اس گروہ کے سرخیل عبد اللہ چکڑالوی ہیں یہ پہلا فرد ہے جس نے ہندوستان میں انکار حدیث کا آزادانہ انکار کیا؛

عبداللہ چکڑالوی کا اصل نام قاضی غلام نبی تھا یہ چکڑالہ ضلع میانوالی کا رہنے والا تھا ان کے والد کا نام قاضی نور عالم تھا؛ جو ڈپٹی نذیر احمد کے شاگرد تھے؛ عبداللہ چکڑالوی نے ترجمۃ القرآن بآیات القرآن کے نام سے قرآن کریم کی تفسیر لکھی اس تفسیر میں جا بجا اس نے احادیث رسول صل اللہ علیہ وسلم کے خلاف اپنے دلی بغض وخبث کا مظاہرہ کیا چنانچہ ایک نمونہ ہم آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں آیت وما کان من المشرکین کے تحت لکھتے ہیں کتاب اللہ کے مقابلے میں انبیاء اور رسولوں کے اقوال وافعال یعنی احادیث قولی وفعلی وتقریری پیش کرنے کا مرض ایک قدیم مرض ہے؛ اسی طرح مختلف آیات کے تحت یہ انکار حدیث کھلم کھلا کرتے جاتے ہیں بہرحال عبداللہ چکڑالوی نے اپنی خواہشات کو دخل دینے کے لیے اور عملی جامہ پہنانے کے لیے ارکان اسلام کے متعلق احادیث میں خوب تاویل فاسدہ کے گھوڑے دوڑائے؛
جاری ہے


  • 1
    Share