احسن اقبال کو مبارک باد دیجئے


وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے گزشتہ روز درباری پیر امین الحسنات کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔جس میں انہوں نے اسلام آباد میں تحریک لبیک یارسول اللہ کے دھرنے کے حوالے سے اب تک کی کارگزاری پر روشنی ڈالنے کی سعی کی۔موصوف اس موقع پر بار بار احادیث مبارکہ کے حوالے دیتے رہے ۔جبکہ پیر امین الحسنات حکومت کے گن گاتے نظر آئے ۔اس موقع پر ناموس رسالت ﷺ کے حوالے سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اورجملہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا طرز عمل بتانا وہ بھول گئے ۔ختم نبوت ﷺ سے متعلق ارشادات بھی نہ بتاسکے ۔گستاخان رسول کا انجام بھی نہیں بتایا۔بلکہ وہ احادیث میں جن میں واضح ہے کہ کوئی شخص مومن ہوہی نہیں سکتا جب تک محمد مصطفیٰ ﷺ اسے اس کے والدین اہل و عیال سے بڑھ کرپیارے نہ ہوں ۔

جناب وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے فرمایا کہ “ہمیں مبارک باد دی جائے کہ ہم نے ختم نبوت ﷺ کے حلف نامے کی شق میں ترمیم واپس لی اور اسے اصل حالت میں واپس بحال کردیا “سب ایک بار سبحان اللہ کہیئے ۔

یعنی پہلے گولی مارتے ہیں بندہ شدید زخمی ہوجاتا ہے پھر جائے وقوع سے بھاگنے کی ہرممکن کوشش کرتے ہیں ۔پوری کوشش کرتے ہیں کہ ثابت ہوجائے یہ گولی ہم نے ماری ہی نہیں ہے ۔لیکن عوام کا جم غفیر جمع ہوجاتا ہے ۔عینی شاہدین کی بڑی تعداد سچ بتانے پہنچ جاتی ہے ۔تو مجبور ہوجاتے ہیں اسی مجبوری میں اسے اسپتال لے جاتے ہیں اور علاج معالجہ کرانے کے بعد پھر کہتے ہیں ۔ہمیں کیا پتا تھا کہ گولی مارنے سے بندہ زخمی ہوجائے گا۔ہم نے جان بوجھ کر گولی نہیں ماری ۔وہ تو بس لگ گئی ۔ہمیں تو مبارک باد دیجئے کہ گولی مارنے کے بعد ہم بندے کو اسپتال لیکر گئے اس کا علاج کرایا ۔

اسی طرح انہوں نے پہلے دانستہ یا نادانستہ ختم نبوت ﷺ کی شق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی ۔اور ایسا کرنے کے بعد دھڑلے سے کہتے رہے کہ ایسا کچھ ہوا ہی نہیں ہے ۔ہم نے تو کچھ کیا ہی نہیں ہے ۔لیکن جب علمائے کرام نکلے عوام نکلی۔اور بچنے کا کوئی راستہ نہیں رہا۔تو جناب اسپیکر نے فرمایا کہ ” یہ ایک کلیریکل”غلطی تھی ۔پھر اس پر مزید تاویلات آنے کا سلسلہ شروع ہوا۔اعلان ہوا کہ ہم نے کمیٹی بنادی ہے ۔جس کے سربراہ راجہ ظفر الحق ہوں گے وہ تحقیقات کرے گی اور ذمہ داران کا تعین کرگے اور اس کمیٹی کی رپورٹ پبلک کی جائے گی اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔لیکن نہ تو کمیٹی کی رپورٹ آئی نہ اس کے ذمہ داران کا کوئی اتا پتا ہے ۔پھر بھی جناب عزت مآب وزیر داخلہ صاحب فرماتے ہیں کہ ہمیں مبارک باد دیجئے۔

جی ہاں قادیانیوں کا مردہ گھوڑا زندہ کرنے کی کوشش پر مبارک باد تو بنتی ہے ۔جناب میاں نواز شریف قادیانیوں کو بھائی قرار دے چکے ہیں ۔مبارک باد بنتی ہے ۔جناب رانا ثناء اللہ صاحب قادیانیوں کو اپنے جیسا مسلمان اورقادیانی مسئلے کو چھوٹا سا اختلافی مسئلہ قرار دے چکے ہیں ۔مبارک باد بنتی ہے ۔ایک ایسی شق جس کا انتخابی اصلاحات 2017-18سے دور دور کا کوئی واسطہ نہ تھا۔اس میں ترمیم کی کوشش پر مبارک باد تو بنتی ہے ۔ختم نبوت کی شق میں ترمیم کے بعد بھی ڈھٹائی سے مصر رہنا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا ۔مبارک باد تو بنتی ہے ۔جب سب کھل کر مخالفت پر آگئے تو پھر چپ چا پ ترمیم واپس لیکر یہ کہنا کہ جی ہم نے ترمیم واپس لیکر تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا ہے ۔مبارک باد تو بنتی ہے ۔

جناب وزیر داخلہ صاحب آپ کو یاد ہو کہ نہ ہو ۔آپ کبھی اس اجتماعیت کا حصہ ہوا کرتے تھے جس نے فتنہ قادیانیت کے خلاف پاکستان میں پہلی شہادت دی۔آپ بھی کالج کے طالبعلم رہے ہیں وہ بھی کالج کا طالبعلم تھا۔ جس نے ختم نبوت ﷺ کیلئے جان نچھاور کی تھی۔لیکن آج آپ مسلم لیگ ن کا حصہ ہیں ۔اور بجائے اپنی غلطی پر توبہ استغفار کرنے اور ندامت کا اظہار کرنے کے آپ کہتے ہیں ہمیں مبارک باد دیجئے۔سبحان اللہ۔ کیا ہی کہنے ۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس حساس ترین مسئلے پر غلطی کے بعد جناب میاں محمد نواز شریف صاحب قوم سے خطاب کرتے اور بتاتے کہ یہ غلطی ہوئی ہے اور ہم اللہ کے حضور معافی کے خواستگار ہیں ۔اللہ ہمیں معاف فرمائے ۔ہم بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں معافی کی طلبگار ہیں ۔حضورﷺ درگزر فرمائیں۔ہمیں شافعی محشر ﷺ کے مجرم ہیں ۔اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہماری توبہ قبول فرمائے۔عوام سے بھی معافی چاہتے ہیں کہ ان کی دل آزاری ہوئی ۔اب ہم اس کے ذمہ دار کا تعین کریں گے اور اگر کسی نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے تو اس کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کریں گے ۔کیوں کہ ختم نبوت ﷺ ایمان کی بنیاد ہے ۔اس کے لئے سیاست کیا جان بھی قربان ہے ۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔بلکہ کیپٹن صفدر نے جب قومی اسمبلی میں تقریر کی اور ختم نبوت ﷺ کی بات اٹھائی۔تو میاں صاحب اینڈ کمپنی نے اسے کیپٹن صاحب کا ذاتی بیان قرار دے دیا ۔صاف واضح کیا گیا کہ مسلم لیگ ن کا کیپٹن کے بیان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔چلیں بیان سے اتفاق نہ کرتے اتنا ہی کہہ دیتے کہ غلطی ہوئی ہے ذمہ داران کا تعین کر کے کاروائی کریں گے ۔لیکن اب تک کچھ ہوا ہی نہیں ۔

اب تحریک لبیک یارسول اللہ ایک ایسی جماعت کے طور پرسامنے آئی ہے جس کا اول اور آخر ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت ہے ۔غازی ممتازقادری شہید کی شہادت کے بعد اس تحریک کا وجود میں آنا اس عوامی ردعمل کی واضح نشانی ہے جسے حکومت وقت محسوس کرنے سے قاصر رہی۔آج تحریک لبیک اسلام آباد میں دھرنا دیئے بیٹھی ہے ۔اسلام آباد میں نومبر کی سرد راتوں کا عالم مجھ سے پوچھئے ۔اتنی سردی اور ٹھنڈ ہوتی ہے کہ اللہ کی پناہ۔میں چیلنج کرنے کو تیار ہوں کہ کسی سیاسی جماعت کے کارکن اس قدر ٹھنڈ میں اسلام آباد میں ایک رات بھی نہیں گزار سکیں گے۔اوپر سے بار ش کا ہونا تو سونے پر سہاگہ ہے ۔لیکن حیران کن امر ہے کہ یہ لو گ ڈٹے ہوئے ہیں یہ لوگ جمے ہوئے ہیں ۔لبیک یارسول اللہ کی صدائیں بلند ہورہی ہیں ۔آیا آیا محمد عربیﷺ کا دین آیا کے نعرے لگ رہے ہیں ۔غلامی رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے کہ ترانے فضاؤں میں گونج رہے ہیں ۔دھرنے کے شرکاء کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ۔ان کو کسی نے یہاں ٹھرنے کی ہمت دی ہے تو وہ جزبہ عشق رسول ﷺ ہے ۔ان میں اتنی ہمت اگر عود آئی ہے تو اس کے پیچھے عشق رسول ﷺ ہے ۔ان کا طریقہ کار جو بھی ہے لیکن ان کی نیت سرورکائنات ﷺ کی ناموس کی حفاظت کیلئے علم بلند کرنا ہے۔مبارک باد تو رضوی صاحب اور ان کے ہمراہیوں کو دینی چاہیے۔

ایسے لوگوں سے آپ آپریشن کر کے نہیں جان چھڑا سکتے ۔آپ دھمکیاں دیں گے ان کی تعداد مزید بڑھے گی۔مفتی منیب الرحمٰن بھی کہہ چکے ہیں کہ دھرنے والے کے مطالبات درست ہیں جائز ہیں ۔اب آپ کا کام ہے کہ مذاکرات کریں ۔اپنے وزیر کو عہدے سے ہٹائیں ۔مسئلہ حل کرنا بھی آپ کے ہاتھ میں ہے اور بڑھانا بھی آپ کے ہاتھ میں ہے ۔ہم آپ کو مبارک باد اس وقت دیں گے جب آپ اس ترمیم کے اصل ذمہ داران کا تعین کریں گے اور ان کے خلاف کاروائی کریں گے۔آپریشن کی دھمکیوں سے ایسے قافلے نہیں روکے جاسکتے ۔یہ کوئی سیاسی لوگ نہیں ہیں ۔خدارا اس معاملے کی سنگینی کا احساس کیجئے ۔یہ معاملہ رکے گا نہیں ۔یہ کسی اقلیتی مسلک کا دھرنا نہیں ہے اس ملک کی واضح اکثریت کا جلسہ ہے ۔جس میں ابھی صرف مخصوص جماعتیں شریک ہیں لیکن یہ معاملہ بڑھا تو پھر سب ہی اس میں شامل ہوں گے تو جو تحریک اس وقت فیض آباد میں ہے وہ پورے ملک میں شروع ہوسکتی ہے ۔مبارک باد کو چھوڑیئے کام کیجئے عملی کام۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *