–آپ کو تو وزیرِ اعظم ہونا چاہیے–اسامہ بن نسیم کیانی



وہ امارات کے تپتے صحراؤں میں رزقِ حلال کے حصول کی خاطر اپنا پسینہ بہا رہا تھا۔ صبح سے شام تک کام اور پھر اوور ٹائم بھی ، بدلے میں چند ہزار روپے ملتے جنہیں وہ اپنے گھر روانہ کرتا۔ اُس معمولی سی رقم سے اُس کے چھوٹے چھوٹے بچوں کی ننھی منی خواہشات پوری ہوتیں ، گھر کا چولہا چلتا اور بقیہ رقم قرض کے پہاڑ کو کُرید کُرید کر کم کرنے کے کام آتی ۔ گزشتہ عید کے موقع پر ہم نے نادار بچوں کی مدد کے پروگرام بنایا تو صاحبانِ خیر نے بہت مدد کی ، جب میرا فیس بک سٹیٹس اُس کی نظروں سے گزرا تو رہا نہ گیا اور فورا” تین ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا اور بتایا کہ وہ زیادہ دیتا لیکن 8 لاکھ کے قرض میں ڈوبا ہے ۔ اتفاق سے اگلے ہی روز ان کی کمپنی نے اُسے اور دیگر مزدوروں کو ایک جنگل میں بھیج دیا ، جہاں نئے منصوبے پر کام شروع ہوا۔ تین ماہ تک وہ سوشل میڈیا سے کٹا رہا ، اتنے میں عید بھی گزرگئی۔ تیسرے ماہ وہ آیا اور آتے ساتھ ہی مجھ سے  رابطہ کرکے کہا ” اپنا نمبر اور پتہ بتائیے ، میرے ضمیر کا بوجھ ہلکا کردیجئے ” نمبر پتہ دینے کے بعد اُن سے بوجھ کے متعلق پوچھا تو اُنھوں نے ساری بات یاد دلائی جو میں بھول چکا تھا۔ وعدہ وفائی میں تاخیر کے ذمہ دار وہ نہ تھے ، مگر پھر بھی ذمہ داری اپنے اوپر لیے جارہے تھے ۔ اور بار بار کہہ رہے تھے” اللہ کو اِس وعدے کی تاخیر کا کیا جواب دوں گا؟ ” ۔ 

اگلے ہی روز فون پر ایک پیغام موصول ہوا ، دیکھا تو اُنھوں نے پیسے بھیج دیئے تھے ، تھرتھراتے ہوئے ہاتھوں سے پیسے وصول کرتے ہی میں نے ایک محتاج تک پہنچا کر ، اُنھیں یہ پیغام ارسال کیا:

” آپ کا بہت بہت شکریہ ، پیسے وصول ہوگئے ، آپ کو تو وزیرِ اعظم ہونا چاہیے ، آپ وعدے پورے کرنے میں یقین رکھتے ہیں ، آپ کا ضمیر بھی ہے ، آپ ذمہ داری بھی لیتے ہیں اور ذمہ دار بھی ہیں ۔ لیکن ہمارے ملک کے سب سے بڑے عہدوں پر بیٹھنے والے اِن صفات سے خالی ہیں ۔ کاش آپ وزیرِاعظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *